پاکستان کی آبادی میں تیزی، پانچ سال میں انڈونیشیا سے آگے نکلنے کا خدشہ

اسلام آباد میں بڑھتی ہوئی آبادی کو ایک سنگین قومی مسئلہ قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو پاکستان آئندہ پانچ برسوں میں انڈونیشیا سے بھی آگے نکل سکتا ہے۔
ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت دنیا کا پانچواں بڑا آبادی والا ملک ہے اور ہر سال تقریباً باسٹھ لاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے، جو بعض ممالک کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبادی میں مسلسل اضافہ صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور روزگار کے شعبوں پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے۔
وزیر صحت نے زور دیا کہ پائیدار ترقی کے حصول کے لیے شرحِ پیدائش کو موجودہ تین اعشاریہ چھ سے کم کر کے دو تک لانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے پر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو وسائل پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا اور مؤثر منصوبہ بندی ممکن نہیں رہے گی۔
انہوں نے بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ایران کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے مؤثر حکمت عملیوں کے ذریعے آبادی میں اضافے کو قابو میں رکھا اور اپنے عوام کو بہتر سہولیات فراہم کیں۔
اجلاس میں وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا صدیقی نے بھی شرکت کی اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت آبادی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مکمل مالی اور پالیسی تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو یقینی بنایا جائے گا۔
وزیر صحت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبادی میں اضافہ صرف حکومتی نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری کا معاملہ ہے، جس کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہ
















